میرا جسم میری مرضی
ایک
گاؤں کے چوہدری کے بیٹے کی شادی تھی چوہدری صاحب نے ایک انوکھا فیصلہ کیا کہ پورے گاؤں
کو اس شادی کی خوشی میں شامل کیا جائے۔
haqooq e niswan | apna khana khud garam krlo | nazar tumhari krne lagi hoshiyari
اس
کے لیے انہوں نے اعلان کروا دیا کہ بیٹے کی شادی کی خوشی میں پنڈ کے ہر گھر کو ایک
جانور تحفے میں دیا جائے گا۔
مزید
یہ کہ جس گھر میں مرد کا راج ہوگا وہاں ایک گھوڑا دیا جائے گا۔
اور اس کے بر عکس جس گھر میں عورت کا راج ہو گا وہاں ایک مرغی دی جائے گی۔
چوہدری
صاحب نے اپنے کار خاص گامے کو جانوروں کی ترسیل کا کام سونپ دیا۔
پہلے
ہی گھر میں گاما دونوں میاں بیوی کو سامنے بٹھا کر پوچھتا ہے کہ گھر کے فیصلے کون کرتا
ہے۔۔؟
مرد بولا : میں
گامے نے جواب دیا کہ جناب سارے گھوڑے کسی نا کسی کے ہو گئے ہیں،
اب صرف تین باقی ہیں؛ ایک کالا، ایک سرخ اور ایک چینا۔ جو تمھیں پسند ہے وہ بتا دو؛
مرد نے فوراً جواب دیا کہ مجھے چینا پسند ہے۔
پاس ہی بیٹھی بیوی نے برا سا منہ بناتے ہوئے اپنے خاوند کو ٹوکا
اور اونچی آواز میں بولی۔ نہیں۔۔ نہیں۔۔ ہم کالا لیں گے،
میں نے دیکھا ہوا ہے، اس کے ماتھے پہ سفید پھلی ہے، وہ بڑا سوہنا
ہے۔
مرد نے کہا کہ چلو کالا ہی دے دو
گاما آرام سے اٹھا،
تھیلے سے ایک مرغی نکالی، عورت کو پکڑائی
اور اگلے گھر کو چل دیا۔
گاما بتاتاہے کہ پورے گاؤں میں مرغیاں ہی تقسیم کیں
کیا ابھی بھی عورت کو حقوق چاہیں۔۔۔۔؟؟؟



0 Comments