Top Add

Proud Woodcutter مغرور لکڑہارا کہانی

 

مغرور لکڑہارا

woodcutter | story



ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بہت بڑے گھنے جنگل کے پاس واقع ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک مغرور لکڑ ہارا رہتا تھا۔ یہ بوڑھا لکڑہارا لکڑیاں کاٹنے میں بہت ماہر تھا۔ لکڑہارے کے پاس نہ جانے کون سی جادو کی پڑیا تھی کہ ہمیشہ کہیں نہ کہیں سے لکڑیاں ڈھونڈ لاتا تھا۔ گاؤں میں سبھی لوگ اسی سے لکڑیاں خریدتے تھے۔ مگر مجال ہے کبھی اپنی لکڑیاں کسی کو مفت بھی دے دے۔ جب بھی کسی بے چارے کو لکڑی ضرورت پڑتی تو غرور سے منہ پھیر لیتا اور حقارت سے کہتا کہ جنگل جاؤ اور اپنی لکڑیاں خود کاٹ کر لاو۔

اگر خود کاٹ سکتے تو تم سے کیوں مانگنے آتے؟ نہ تو ہمیں کلہاڑی بنانی آتی ہے اور نہ ہی چلانی، نہ ہمیں خشک لکڑیاں ڈھونڈنا آتی ہیں اور نہ ہی انہیں جنگل سے لے آنے کا سلیقہ۔ لوگوں کے گھر میں فاقے پڑ جاتے مگر لکڑہارا مزے سے مستی میں بھنا ہو گوشت کھاتا رہتاتھا۔ کوئی اسے پسند نہیں کرتا تھا۔

لاکھ برائیوں کے باوجود لکڑہارے کی ایک خوبی بہت خاص تھی۔ وہ اپنا ہنر نہیں چھپاتا تھا۔ بلکہ ہر ایک سے کہتا تھا کہ آو تمہیں کلہاڑی چلانا سکھاؤں۔ جب بھی کسی کو ضرورت ہوتی تو لکڑہارا یہی کہتا کہ آو میرے ساتھ جنگل چلو میں تمہیں سکھا دوں گا۔ مگر گاؤں والوں کو یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ لکڑہارے کے پاس حد سے زیادہ فالتو لکڑیاں پڑی رہتی ہیں اور پڑے پڑے گل سڑ جاتی ہیں تو ہمیں کیوں نہیں دے دیتا۔ کہ ہمارے بچوں کو بھی گرم کھانا نصیب ہو۔ یہ کٹائی سیکھنے والے کام میں کون پڑے۔

ایک دن صبح صبح لکڑہارے کی بیوی کے چیخنے کی آوازیں گونجیں، لکڑہارا مر گیا تھا۔ زندگی بہت مختصر ہے۔ کیا ہوتا اگر یہ لکڑہارا زندگی بھر لوگوں کے کام آتا؟ اب کس کام آئیں گی اس کی لکڑیاں۔

مگر اب گاوں کے لیے لکڑیاں کون کاٹے گا؟

گاؤں کی ہنگامی پنچایت میں یہ بات زیر بحث آئی کے مویا جیسا بھی تھا لکڑیاں تو کاٹ لاتا تھا۔ کسی اور کو تو لکڑیاں لانا آتا نہیں۔ اب کیا ہو گا؟ کیا ہمارے بچے دودھ دہی پر گزارا کریں گے؟

اسی اثنا میں چاروں قبیلوں میں سے وہ ایک ایک لڑکا سامنے آ گیا جن کی لکڑہارے سے دوستی تھی۔

ہم کاٹیں گے، ہم نے لکڑہارے کی بات مان کر اس سے لکڑیاں کاٹنا سیکھ لیا تھا۔

اور کوئی ہم سے مفت لینے نہ آئے۔ جس کو ضرورت ہے ہم سے سیکھ لے اور خود کاٹا کرے۔

یہ نئے لکڑہارے بھی مغرور نکلے، آخر شاگرد کس کے تھے۔

لکڑہارا مر گیا تھا مگر اس کی منحوس روح اب تک گاوں پر سایہ فگن تھی۔

 

Post a Comment

0 Comments