ایک ایسا واقعہ جو اللہ رب العزت کی بے شمار حکمتوں میں سے ایک کے اسرار سے پردہ اٹھاتا ہے۔
یہ
دوسری جنگ عظیم کا واقعہ ہے کہ جب روس سے تعلق رکھنے والے ولادیمیر
Vladimir
Spiridonovich Putin | Russian president
ولادیمیر
اسپریڈونووچ پوتن نامی
ایک رضاکار فوجی جوان جس کے سپرد یہ کام تھا کہ وہ ایک فوجی دستے کے ساتھ مل کر سینٹ
پیٹرز برگ کے نواح میں ریلوے لائن اور پل تباہ کردیں تاکہ جرمن افواج کی پیش قدمی روکی
جاسکے۔ ایک دن جنگل میں جرمن فوجی ان کا تعاقب
کر رہے تھے۔ اٹھائیس فوجیوں کے اس دستے میں
سے چوبیس نوجوان جرمن فوجیوں کی گولیوں کا
نشانہ بن گئے۔ ویلڈی میر صرف اس لئے بچ گیا کہ اس نے خود کو ایک دلدل میں چھپا لیا
تھا۔ وہ کئ گھنٹے تک اس کیچڑ میں سر سے پائوں تک غرق رہا۔ سانس لینے کے لئے اس نے ایک
سرکنڈے کی نلکی کو اپنے منہ سے لگا رکھا تھا جس کا دوسرا سرا دلدل سے باہر نکلا ہوا
تھا۔ ویلڈی میر کہتا ہے کہ جرمن فوجی اس سے محض چند قدم کے فاصلے سے گزر رہے تھے اور
وہ جاسوس کتوں کے بھونکنے کی آواز بالکل صاف سن رہا تھا۔یہاں سے کسی نہ کسی طرح بچ
جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر دوران جنگ ایک گرنیڈ اس کے بالکل قریب پھٹا لیکن اس کی زندگی
تھی کہ یہ ایک مرتبہ پھر موت کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوگیا لیکن گرنیڈ کے ٹکڑے اس
کی ٹانگ میں گھس گئے۔ کسی نہ کسی طرح اس کے ساتھی نے اس کو ایک ھسپتال پہنچایا جہاں
ڈاکٹروں نے آپریشن کر کے اس کی جان بچا لی۔ لیکن گرنیڈ کے کچھ ٹکڑے اس کی ٹانگ میں
ہمیشہ کے لئے رہ گئے کہ ان کے نکالنے سے ٹانگ کے مسلز بھی کٹ سکتے تھے۔ مہینوں کے بعد اس فوجی کو گھر جانے کی چھٹی مل گئی۔
جب
وہ اپنے گھر کے قریبی سڑک پر پہنچا تو اس نے وہاں پر ایک فوجی ٹرک کھڑا دیکھا جس میں مردہ لاشیں رکھی جا رہی تھیں ۔اسے اندازہ ہو گیا
کہ دشمن نے اسکے آنے سے قبل اسکے گاؤں پر حملہ کر دیا ہے۔
ٹرک
میں رکھی جانے والی لاشوں کو اجتماعی قبر میں دفن کرنےکے لیے لے کر جایا جا رہا تھا۔
وہ فوجی لاشوں کے سامنے مبہوت کھڑا ہوا تاکہ انکو
آخری نظر دیکھ سکے کہ اچانک اسکی نظر ان جوتوں پر پڑی جو اس نے اپنی بیوی کے لیے مدتوں پہلے خریدے تھے۔
یہ
دیکھ کر وہ دیوانہ وار اپنے گھر کی طرف دوڑنے لگا تاکہ اپنی بیوی کی بیوی حالات معلوم کر سکے لیکن وہ آدھے راستے
سے پلٹ کر واپس آ گیا۔ وہ ٹرک میں پڑی لاشوں
کو ہٹاتا ہو اس جوتے والی لاش تک پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ اسی کی بیوی کی لاش ہے ۔
اس سخت صدمے کے بعد فوجی نے اپنی بیوی کی لاش کو اجتماعی قبر میں دفن
کرنے سے منع کر دیا اور لاش کو گاڑی سے اتارنے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اسے صحیح طریقے
سے الگ دفن کر سکے۔
لاش
کو گاڑی سے اتارتے وقت پتہ چلا وہ ابھی بھی
آہستہ آہستہ سانس لے رہی ہے اسکےبعد اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں پر اسکا درست
طریقے سے علاج کیا گیا اور اسکی بیوی کو دوبارہ ایک نئی زندگی مل گئی۔
اس
حادثے کے کچھ سالوں بعد 7 اکتوبر 1952 کو اس
فوجی کی وہ عورت جو کہ زندہ دفن ہونے جا رہی
تھیں نے ایک بچے کو جنم دیا جس کا نام ولادہمیر پوٹن رکھا گیا اور جو حالیہ وقت
میں روس کے طاقتور صدر ہیں
Vladimir
Vladimirovich Putin | Russian
president
کہئے
سبحان اللہ
(روسی صدر پیوٹن کے لکھے ایک کالم سے اقتباس)



0 Comments